سنبھالے جائیں
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, Quettaبے ضمیرے نہ کسی طور بھی پالے جائیں
تھام کر ہاتھ یہ اب گھر سے نکالے جائیں
قرض ہم نے جو دیا، کوئی بڑا جرم کیا؟
روز ہی اور کسی روز پہ ٹالے جائیں
اشک تُو نے جو دیئے قیمتی سرمایہ ہیں
تیرے بخشے ہوئے موتی نہ سنبھالے جائیں
ہاں میں جو ہاں کے ہیں قائل وہی محفل میں رہیں
جو مری ضد میں اٹھا لائے حوالے، جائیں
سخت مشکل میں ہیں، اے اہلِ وطن کیا ہوگا؟
روز حالات نئے سانچوں میں ڈھالے جائیں
دل (کہ آسیب زدہ ایک حویلی ہے) مرا
اس کی پہچان (یہی ہوتے ہیں جالے)، جائیں؟
صاحبِ شہر تو آزاد ہر افتاد سے ہے
اور مشکل میں ہمی لوگ ہی ڈالے جائیں
کس ڈھٹائی سے یہ اعلان ہؤا ہے سرِ بزم
گورے رہ جائیں یہاں جتنے ہیں کالے، جائیں
میں جو چپ ہوں تو ہوں انجان ضروری تو نہیں
آپ کے روپ میں ہیں کتنے اجالے؟ جائیں
یاد زندہ ہے تجھے کیسے نکالوں دل سے
ڈوبیں دریا میں تو مُردے ہی اچھالے جائیں
دل میں حسرتؔ ہے مجھے آخری بار آ کے ملو
کیا ملے مجھ کو سکوں، ہونٹوں سے نالے جائیں
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






