سنبھلنے دے اے آسماں مجھے تغیرات میں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاسنبھلنے دے اے آسماں مجھے تغیرات میں
کہاں پہ لے کے آگئی خودی تصورات میں
وہی اداس روز و شب، وہی فسوں، وہی ہوا
امید وصل اشک بن کے ہر گھڑی ہے ساتھ میں
وہ چھوٹی چھوٹی رنجشوں کا لطف بھی چلا گیا
تلاش میں سحر کے ہوں سدا سیاہ رات میں
جدائیوں کے زخم دردِ زندگی نے بھر دیئے
کہ رسمی رابطہ رہا ہے چند واقعات میں
ترے وصال کا زمانہ یاد آ یا بارہا
مخل ہوئے نہ آکے تم فراق کے ثبات میں
گئے دنوں کی لاش پر پڑے رہو گے کب تلک
میں خوش تمہاری جیت میں، میں شاد اپنی مات میں
یہ کس خوشی کے موقعے پر غموں کی نیند آ گئی
خوشی کا چاند شام ہی سے جھلملا یا رات میں
بڑے نصیب والے ہو کہ وہ تمہاری ہو گئی
کبھی نہ اپنے آپ کی ہو وشمہ کائنات میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






