سنو اب مجھے کچھ نہیں کہنا
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saadi Arabiaسنو
اب مجھے کچھ نہیں کہنا
مجھے کچھ نہیں سننا
بہت لڑ لیا ہیں تقدیر سے
اب مجھے اور نہیں لڑنا
کیسے جلتے ہیں ارمان
تم نہ سمجھ سکو گیے
جاؤ راستہ بدلو لکی
مجھے اب محبت کی
راہوں میں اور نہیں پڑا
کبھی میرے لفظ رقص کرتے تھے
میری آنکھوں میں چپکے چپکے
تمہارے خواب پلتے تھے
شام و سحر تو ایک طرف ہے
میرے ہر لمحات میں
تمہارے خیال بستے تھے
میری ُامیدیں ، میری ُامگیں
تم ہی سے تھی وابستہ
میری دعاوں میں تمہارے
ذکر صبح و شام چلتے تھے
کوئی تمہیں بھی ُبرا کہے تو
میری وفایئں بہت تکیف دیتی ہیں مجھے
اب مجھے اس بے گناہ
دل پے اور ظلم نہیں کرنے
میری محبت تمہارے لیے ہے
اور شاید تم تک ہی رہے گئی مگر
شیشے سا ہیں وجود میرا لکی
اب مجھے پتھر کے
لوگوں سے سوال نہیں کرنے
مجھے کچھ نہیں کہنا
مجھے کچھ نہیں سننا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






