سنو! اے چاند سی صورت
Poet: ا۔م ایمن By: ایمن بٹ, Islamabadسنو! اے چاند سی صورت
مجھے اچھی لگی ہو تم
کہ جب تم مسکراتی ہو
تو کلیاں کھلکھلاتی ہیں
سبق تیری محبت کا
یہ آ،مجھ کو پڑھاتی ہیں
سنو! اے چاند سی صورت
مجھے اچھی لگی ہو تم
میں جب مضطر سی ہوتی ہوں
تیری صورت کو تکتی ہوں
یہ مجھ کو،زندگی
تابندگی
اور پیار سے دنیا میں رہنے
اور۔۔کسی مشکل میں،بڑھنے کے لیے
میری ہمت بڑھاتی ہے
سنو! اے چاند سی صورت
مجھے اچھی لگی ہو تم
مجھے پھر یاد آتی ہے
تیری بھولی سی صورت
تیر پلکیں
مستانی نگاہیں
جو ا،م کے دل سے گزرتی ہیں
بہت مسرور کرتی ہیں
سنو !اے چاند سی صورت
سنو رابیل میری جاں
مجھے اچھی لگی ہو تم
مجھے اچھی لگی ہو تم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






