سنو بے نور آنکھوں میں ادھورے خواب رہنے دو
Poet: Gulzareen Pasha Zareen By: Gulzareen Pasha Zareen, Kallar Syedanسنو بے نور آنکھوں میں ادھورے خواب رہنے دو
مقدر میں اگر غم ہیں وہی ہنس ہنس کے سہنے دو
نہیں کھلتے ہمیشہ پھول ہی گلزار الفت میں
گلوں کی چھوڑ کر خواہش خوشی سے خار لینے دو
گرا کر ظائع مت کرنا بڑے انمول موتی ہیں
یہ قطرے خون دل کے ہیں رکے پلکوں پہ رہنے دو
بھرے گا کون اب لا کر ستارے مانگ میں تیری
سجا کر اپنے دامن میں شراروں کو ہی رہنے دو
تیری بے ربط دھڑکن حال دل سب کو سنا دے گی
زباں زریں بند کر لو ، فقط آںکھوں کو کہنے دو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






