سنو پیارے
Poet: Amjad Islam Amjad By: Shazia Hafeez, Attockمحبت کرنے والوں کی نگاہیں بھی
ہوا میں ڈولتی خوشبو کی صورت میں
اپنے ہونے کی نشانی چھوڑتی ہیں
چاندنی راتوں میں جیسے چاند کی کرنیں
سمندر کے بدن میں نغمگی آباد ہیں
محبت کرنے والوں کے تعلق اور ان کی دوریاں سب سے
انوکھی ہیں
کہ جیسے بے خبر سورج کے حلقے میں
اگرچہ ان گنت تارے کئی سیارگاں ہیں
اور پھر حلقہ بہ حلقہ ان کے اپنے چاند ہیں لیکن
سبھی اک رشتہ بے نام کی ڈوری میں ایسے منسلک ہیں
جس طرح عشاق کی آنکھیں
سنا ہے عورتیں تو
چاہنے والے کی خوشبو
بے کراں انبوہ میں پہچان لیتی ہیں
محبت کی نظر، ملنے سے پہلے جان لیتی ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






