سن لے مشرقی ناری
Poet: M.Asghar By: M.Asghar, M.Asgharسن لے اوہ مشرقی ناری
اک چھوٹی سی عرض ہماری
کسی کلب میں جانے سے پہلے
خود کو شمع محفل بنانے سے پہلے
اتنا یاد رکھنا یہاں کوئی جیون ساتھی نہیں ملتا
کسی کی امید کا کوئی پھول نہیں کھلتا
لوگوں کی جھوٹی باتوں میں تو جو آ جائے گی
پھر تمام عمر تو پچھتائے گی
جھوٹی تعریفوں س تجھے آسماں پہ چڑھائیں گے یہ
دل لگی کرنے کے بعد سدا کے لیے بھول جائیں گے یہ
ڈھونڈھ لے تو کوئی سچا ساتھی
ایسے کاموں میں ہے بربادی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






