سوئے ہوئے انساں کو جگا کیوں نہیں دیتے
Poet: Humaira Saqlain By: Humaira, torontoبے نام منزل پر چھو ڑ کر، جو دی مجھے! اب خود کو وہ سزا کیوں نہیں دیتے
میری ساری نشانیاں ا ور خط وہ سارے، جلا کیوں نہیں دیتے
یادوں کے عذاب نے ٹھرا دیا غم کا قافلہ اس دل کے اندر
چھن جائے اب تو یہ حافظ میرا ! ایسی دعا کیوں نہیں دیتے
آنکھوں سے میرے تیرگی! پیروں سے زخم سفر جاتا ہی نہیں
جھیلتی ہے محبت جن کے لیے یہ سب! وہ لوگ وفا کیوں نہیں دیتے
جب لکھ دیا نصیب میں تم نے فراق! تو پھر کس منزل کی بات
جہاں سے بچھڑنا ہے محبت کا قافلہ !وہ چوراہا دکھا کیوں نہیں دیتے
دے کر بے بسی اور بے چار گی نکل جاتے ہیں یہ مجبور مصلحت اندیش
اے خدا! ایسے بے ضمیر اور سوئے ہوئے انساں کو جگا کیوں نہیں دیتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






