سوتے میں زندگی کا سفر دیکھتی رہی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلاسوتے میں زندگی کا سفر دیکھتی رہی
اندھیر راج وقتِ سحر دیکھتی رہی
سورج مرے نصیب کا تھا سر پہ آگیا
میں مہرومہ میں اپنا نگر دیکھتی رہی
اس کو تھا کچھ ملال نہ ہی چشم نم کا رنج
میں دائروں میں اپنا سفر دیکھتی رہی
اس نے نہ دیکھا پیار کے خوابوں کا سلسلہ
جو رات کے ہیں پچھلے پہر دیکھتی رہی
بحر وفا کے ساحلوں پہ بے وفا کے بعد
گھٹتے مرا وجود نظر دیکھتی رہی
پھر آج تک نہ زندگی سے رابطہ ہوا
مڑ مڑ کے زیست وشمہ مگر دیکھتی رہی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






