سودوزیاں کا حساب کر لیں
Poet: ڈاکٹر راحت جبیں By: Rahat jabeen, Karachiچلو پھر سے اپنےسودو زیاں کا کر حساب کر لیں
جو لمحے تیری یاد میں گزرے ان کو بھی شمار کرلیں
سودوزیاں کے ان لمحوں میں
کیا تھے اپنے دن رات سوچیں
کیا تھیں اپنی اوقات سوچیں
کیا کچھ ہم نے لٹا دیا ہے
کیا کچھ ہم کو ملا یہاں ہے
چلو پھر سے یہ بات سوچیں
کہاں پہ ہم نے پائیں محبتیں
کھاں پہ ملیں ہم کو عنایتیں
ان عنایتوں اور محبتوں میں
کہیں پہ تھیں کچھ حسرتیں
جہاں پہ تھیں یہ حسرتیں
ان ساعتوں کو بھی شمار کر لیں
کسے ہم سے گلہ تھا یہ سوچیں
کسے ہم سے تھیں شکایتیں
کہیں پہ تھیں کچھ رقابتیں
رقابتوں میں شکایتوں میں
عیاں تھیں ایسی وضاحتیں
جنہیں نہ تم کبھی سمجھ پاۓ
جنہیں نہ ہم بیان کر پاۓ
چلو کہ اب پہ بھی لمحات سوچیں
تجھے پتا ہے مجھے خبر ہے
نہ اب وہ دن رات ہیں اپنے
نہ محنتیں ہیں نہ عنایتیں ہیں
نہ شکایتیں ہیں نہ وضاحتیں ہیں
بس کہیں کہیں پہ کچھ حسرتیں ہیں
انہی حسرتوں کے درمیان
غم دوراں کی ہیں صعوبتیں
چلو ان صعوبتوں کو بھی شمار کرلیں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






