سونے لگتا ہوں ایک بہترین اُردو غزل

Poet: زوہیب سرور By: Zohaib sarwar , Sargodha

سونے لگتا ہوں، چاند سونے نہیں دیتا
کسی کا کل، آج ہونے نہیں دیتا

چاند کی چودہ ہو، عاشق تو یاد آئے گا
تو گزرے ہوئے لمحوں پر روشنی کیوں نہیں دیتا

وہ ماضی تو ہے میرا، بھلایا نہیں جاتا
میں اسی لیے مستقبل کی دعا نہیں دیتا

کبھی عوامی بندہ،اچھی شخصیت کا مالک تھا
الفت کر بیٹھا، اب مالک بھی سزا نہیں دیتا

معراج بہانہ تھا، یہ تو عالم جانتا ہے
اسی لیے تو بلانے والا مجھے عذاب نہیں دیتا

محبوب روٹھ جائے، گناہ لکھا جاتا ہے؟
اب تو مرے کاندھوں کو جھکا کیوں نہیں دیتا

بروئے کار لا مری کچھ نیکیاں بھی
نیکیوں کی جزا میں محبوب کیوں نہیں دیتا

زیب! بدلے کی تمنا جو رکھتے ہو، کچھ کرم اچھے بھی کر لیتے
آپ تو تقدیریں بدلنے والے ہو، تقدیر مری بدل کیوں نہیں دیتا

صنم سے محبت کی سزا نہیں چاہتا ہوں
آخر میرے حال پہ رحم کر، کیوں نہیں دیتا

Rate it:
Views: 0
29 Sep, 2026
More Love / Romantic Poetry