سونے لگتا ہوں ایک بہترین اُردو غزل
Poet: زوہیب سرور By: Zohaib sarwar , Sargodhaسونے لگتا ہوں، چاند سونے نہیں دیتا
کسی کا کل، آج ہونے نہیں دیتا
چاند کی چودہ ہو، عاشق تو یاد آئے گا
تو گزرے ہوئے لمحوں پر روشنی کیوں نہیں دیتا
وہ ماضی تو ہے میرا، بھلایا نہیں جاتا
میں اسی لیے مستقبل کی دعا نہیں دیتا
کبھی عوامی بندہ،اچھی شخصیت کا مالک تھا
الفت کر بیٹھا، اب مالک بھی سزا نہیں دیتا
معراج بہانہ تھا، یہ تو عالم جانتا ہے
اسی لیے تو بلانے والا مجھے عذاب نہیں دیتا
محبوب روٹھ جائے، گناہ لکھا جاتا ہے؟
اب تو مرے کاندھوں کو جھکا کیوں نہیں دیتا
بروئے کار لا مری کچھ نیکیاں بھی
نیکیوں کی جزا میں محبوب کیوں نہیں دیتا
زیب! بدلے کی تمنا جو رکھتے ہو، کچھ کرم اچھے بھی کر لیتے
آپ تو تقدیریں بدلنے والے ہو، تقدیر مری بدل کیوں نہیں دیتا
صنم سے محبت کی سزا نہیں چاہتا ہوں
آخر میرے حال پہ رحم کر، کیوں نہیں دیتا
More Love / Romantic Poetry
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے روٹھ جانے کی ہی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
Bina
من میں تمھیں بسا کے من میں تمھیں بسا کے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
Bina






