سوچو کہ کہیں مجھ سے محبت تو نہیں ہے
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillخوابوں میں دلگداز سی وحشت تو نہیں ہے
سوچو کہ کہیں مجھ سے محبت تو نہیں ہے
سمجھو تو ایک بحر معانی ہے اس میں بند
کہنے کو کوئی خاص شکایت تو نہیں ہے
دن رات آئینے میں ملو اپنے آپ سے
اوپر سے یہ دعوی ہے کہ الفت تو نہیں ہے
میں چاند ستاروں کیلئے چھوڑ دوں دنیا
اب اتنی بھی ارزاں مری قیمت تو نہیں ہے
ہاں میں نے انکو اپنے جنوں کا کیا گواہ
دیوار و در سے پوچھئے خفت تو نہیں ہے
یہ اور بات وقت کبھی کھینچ کے لائے
ملنے کی ذہن میں کوئی صورت تو نہیں ہے
تم ضد پہ آ گئے تو چلو تھام لی میں نے
اس زندگی کی ورنہ ضرورت تو نہیں ہے
کل مشتری کی خاک اڑائی تھی سانس سے
اب سوچ کے بتلا تجھے حیرت تو نہیں ہے
اب بھی ہے وہی دیس نکالا مرے پیچھے
یہ روئے ممکنات ہے جنت تو نہیں ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






