سُوٹ گلابی تُوں پا کے نکلی
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaسُوٹ گلابی تُوں پا کے نکلی،
رُوپ نُوں اور سجا کے نکلی،
لُٹ کے لے گئی مینوں تُوں
کولوں جد تُوں شرما کے نکلی،
اکھیاں وچ جام جے بھر کے تُوں
نیناں نال جام پلا کے نکلی،
معشوم جے چہرے والی لڑکی
دیوانہ مینوں بنا کے نکلی،
سر تو لے کے پیراں تک
اپنا آپ چمکا کے نکلی،
مارن دا ارادہ اُوہدا
مُک تے زلف گرا کے نکلی،
ہونٹ گلابی سُوٹ گلابی
شرم و حیا چھپا کے نکلی،
لگے کوئی شہزادی جیوے
خود نُوں اِنجھ منوا کے نکلی،
صدقے یار حُسن تے اُوہدے
حُسن نُوں حسُن وکھا کے نکلی،
سر پڑ کے سب بہہ گئے سوہنے
سوہنیاں دے ہوش اُڑا کے نکلی،
آئی بہانے نال اُوہ نیڑے
جلوہ اپنا اُوہ وکھا کے نکلی،
چن تو سوہنی صورت اُس دی
چن نُوں مگری لا کے نکلی،
تارے اُونوں ویکھن آئے
جد اُوہ رُوپ سجا کے نکلی،
کرکے اکھیاں نال اشارہ
پیار دی گل سمجھا کے نکلی،
سُوٹ گلابی چ قیامت ورگی
قہر دلاں تے مچا کے نکلی،
کھڑ کے میرے سامنے آکے
غزل پِھر اِک لکھا کے نکلی،
ہولی ہولی میرے نیڑے آئی
چھلے نال چھلا وٹا کےنکلی،
نہال میری اج قسمت کُھل گئی
پیار نال جان بلو کے نکلی،
سُوٹ گلابی تُوں پا کے نکلی،
رُوپ نُوں اور سجا کے نکلی،
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






