سچائی بیان کر رہی ہیں تیری آنکھیں
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaسچائی بیان کر رہی ہیں تیری آنکھیں
مسکراتے لمس لیے کیوں تصویر اتراوتے ہو
کیوں اپنے درد کو اتنا چھپاتے ہو
میرے بعد کیوں تم - آوارگی کو اپناتے ہو
مجھے چھوڑنا تو - اک الگ مصلہ تھا
پھر خود کو تم کیوں اتنا جلاتے ہو
یہ کیسی مجبوریاں ہیں - جو جان لے لیں گی میری
اور اپنا چہرہ دیکھا کر - جینے پے ُاکساتے ہو
مجھے درد دیا - سو دیا - مگر غصہ تو یہ ہے
کہ میرے رقایبوں کا - جا کر درد بٹاتے ہو
یہ کیسی تمناء بس گئی ہیں دل میں
کہ خود کو میری ضرورت بناتے ہو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






