سچ پوچھئے تو آپکو چاہا ہی بہت تھا
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillاب کے چمن بہار میں مہکا ہی بہت تھا
اے جان تجھے سوچ نے سوچا ہی بہت تھا
کہنا پڑی ناں بات وہ آخر بروئے شب
خوشبو نے بھولی یاد کو چھیڑا ہی بہت تھا
پلکوں پہ سجے ضبط کے بند ٹوٹنے تو تھے
کچھ دن سے میری جان میں تنہا ہی بہت تھا
پھر کیا کہ اگر ہم بھی ڈبو آئے سفینہ
لہروں کی کرامات کا چرچا ہی بہت تھا
بکھرے تو ہونگے ہاتھ میں تیرے حنا کے رنگ
وحشت میں تیرے نام کو چوما ہی بہت تھا
یادوں سے میری دیپ جلیں کیوں نہ تمہارے
سچ پوچھئے تو آپکو چاہا ہی بہت تھا
کیونکر وجود حرف سے پھوٹے نہ سویرا
تم پر میرے وجود نے لکھا ہی بہت تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






