سڑکوں پہ چلاتی ہے ، چپ ہو کر تڑپتی ہے
Poet: Ghulam Abbas Saghar By: isha Manzoor, lahoreسڑکوں پہ چلاتی ہے ، چپ ہو کر تڑپتی ہے
راتوں کو جاگتی ہے ،اجالے سے بھی ڈرتی ہے
یقیں کرے تو آخر کس کا،اکیلی آگ میں جلتی ہے
بولے بھی تو لب سی کہ ،آخر وہ ایک لڑکی ہے
نائبِ خدا یا درندے ، زندگی بہت دشوار ہوئی
کبھی زینب ،کبھی حبیبہ ،آج ایک اور بنت حوا مسمار ہوئی
کیسے وحشی بدن کے قاتل ہیں، ساری فضا غمسار ہوئی
وہ جنکا فرض تھا تحفظ ، نگاہ انکی بھی بدکار ہوی
کتنا ظلم دھاتے ہیں ،چاہتوں کی قبریں بناتے ہیں
بنا کر تنگ قبر یں ،وحشت کا جشن بھی مناتے ہیں
چھپاتے خود کو اندھیروں میں ، روشنی کو یہ مٹاتے ہیں
اشکبار کر کہ آنکھوں کو ، ہمدردی کی تحریکیں چلاتے ہیں
عورت کے قصے سنو تم،درد انکا دکھ دل میں بسا لو
چلنے دو انصاف کی ہوا، خوابوں کو اب حقیقت بنا لو
روح کی چادریں پھٹ چکی ،پردے ایمان کے تم سجا لو
کتنا درد چھپا ہے چہروں پر ،باطل کو اب تو مٹا لو
عورت زینت گھر کی،کبھی ماں ،بہن اور کبھی بیٹی ہے
کوئی تو صدا سنے ،ہر منصف کو یہ صدا دیتی ہے
جب کوئی نہ امیدِعدل ،تب گردن سولی چڑھا لیتی ہے
جنت ہے پاؤ تلے، جسے سمجھ بیٹھے تم کہ اپنی ہی کھیتی ہے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا






