سڑک پر جنگل
Poet: M Usman Jamaie By: M Usman Jamaie, karachiتم کنارے کھڑے منتظر ہی رہو
یہ سڑک ہے فقط ٹائروں کے لیے
تم بہت سُست رَو
اور یہ وقف ہے
وقت کے تیزرَو دائروں کے لیے
تم کہ حشرات ہو، رینگتے، ناتواں
اور یہ آہنی طائروں کے لیے
تم کھڑے ہی رہو
مُضطرب، منتظر
دوڑتے برق پاروں کو تکتے ہوئے
بڑھ کے پیچھے کو ہٹتے، ججھکتے ہوئے
اور مشینی درندے جھپٹتے ہوئے
ان سے بچتے، سمٹتے، سرکتے ہوئے
اپنی گہرائی میں ڈوبتی رات تک
راستہ پار کرنے کی خیرات تک
تم کھڑے ہی رہو
یہ سڑک، کہ فقط اک سڑک ہی نہیں
کچھ خیالات کی ترجمانی ہے یہ
اک تصور کی گویا نشانی ہے یہ
اک کتابِِ کُہن کی کہانی ہے یہ
تم کو پیغام اس کی زبانی ہے یہ
”سارے رستے ہیں زور آوروں کے لیے
ہر رکاوٹ ہے تم بے بسوں کے لیے
تم کھڑے ہی رہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






