سیفِ ھجراں
Poet: Haider Ali By: Haider Ali, karachiہوگی پُر نور تیرے دم سے میری عُمرِ رواں
ہوگی حیات میری تیرے سبب جاویداں
اُمیدِ وصل پہ کٹتے ہیں میرے شام و سحر
تیرے وجود کا چاہتا ہوں خود پہ سائباں
تمنّا شدّتِ غم میں بھڑکتی اور بھی ہے
مُطمئن ہوگا تیرے مِلنے سے دلِ ناداں
لاکھ اعذار تیرے مُجھ کو ستاتے ہیں مگر
بَا خُدا دل تیری وفا پہ پھر بھی ہے نازاں
مُنتظِر آنکھوں کا ہو جائے انتظار ختم
تڑپ کے ہو گئیں ہیں تیرے بنا آبِ رواں
بتائے کیسے تُجھے دل کی کیفیت حیدر
ہجر کی سیف سے مقتول بنا ہے جاناں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






