شبِ عروس
Poet: Muhammad Faisal By: Muhammad Faisal, Karachiخمارِ عشق کی سر مستیوں کی بات کریں
دیارِ حسن میں دیوانے دل جو رات کریں
وہ ذوق و شوق کی بے تابیاں کہ ان کے طفیل
سرور و کیف کی حاصل مئے نشاط کریں
زہے نصیب مقابل ہیں آج وہ ماہ رُو
تصورات میں جو روز واردات کریں
متاعِ جاں بھی لٹا دیں گے اک اشارے پر
وہ اپنی چشمِ کرم سے جو التفات کریں
حدیثِ دل کا بیاں ہے محال لفظوں میں
تو گوشِ دل سے سنیں اور نظر سے بات کریں
کتابِ زیست کے عنواں بدل گئے فیصلؔ
کسی حسین سے موسوم اب حیات کریں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






