شب قربت غم ھجراں کے جب امکان دیکھیں گے
Poet: Tanvir Sheraz By: Tanvir Sheraz, (Khurrianwala) Faisalabadشب قربت غم ھجراں کے جب امکان دیکھیں گے
محبت میں زیادہ کس کو ھے نقصان دیکھیں گے
سمندر موجزن ھے اور صحرا پیاس میں ڈوبا
ملیں گے جب بھی دونوں اک نیا طوفان دیکھیں گے
بگولے دشت کے جب بھی سمندر پر چلیں گے تب
سفینے بیچ پانی میں چھپے ہیجان دیکھیں گے
جگر کے خون سے سینچا محبت کا شجر میں نے
زمیں کی کوکھ میں ایسا کھاں انسان دیکھیں گے
مسافر ڈھونڈ لیں گے منزلیں اپنی سھولت سے
کوئی جگنو کسی جنگل کا جب دربان دیکھیں گے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






