شدتِ درد سے راحت ملی مجھے
Poet: Ahsin Fayaz By: Ahsin Fayaz, Badinشدتِ درد سے راحت ملی مجھے
ایک بددعا سے شفاعت ملی مجھے
سجا ہے جاں تیری تصویروں سے گھر
آ دیکھ کتنی حسیں تربت ملی مجھے
میں ایک ہی تو دعا کو ڈھونڈ رہا تھا
مگر ہر آس میں فرقت ملی مجھے
امیرِ شہر تیرے شہرِ امیر میں
بہ خدا ہر گلی میں غربت ملی مجھے
لفظ الوداع میں ہزار ہجر ہی سہی
لہجہِ جاناں سے محبّت ملی مجھے
احسن میں کچھ اور بھی کرلوں مگر
تیرے عشق سے کب فرصت ملی مجھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






