شدت درد کی کچھ تاب لا نہیں سکتا
Poet: Dr.Zahid sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanشدت درد کی کچھ تاب لا نہیں سکتا
مجھ کو اس حال میں اب چین آ نہیں سکتا
زندگی ایک نئے موڑ پہ آ ٹھہری ہے
لوٹ کر پھر انہی راہوں پہ جا نہیں سکتا
اب امنگوں کے گلابوں کا نہیں ہے موسم
اب محبت بھرے نغمات گا نہیں سکتا
آج مایوسی مری حد سے بڑھی جاتی ہے
آج اپنے لیے کچھ بھی تو پا نہیں سکتا
موت ہے سامنے اور سانس رکی جاتی ہے
زندگی جا تجھے واپس میں لا نہیں سکتا
درد سہہ سہہ کے خود اک درد بنا جاتا ہے
اب مسیحا سے بھی دل بس میں آ نہیں سکتا
شدت درد کی کچھ تاب لا نہیں سکتا
مجھ کو اس حال میں اب چین آ نہیں سکتا
نوٹ:- چند سال ہوئے دل کے آپریشن سے کچھ دیر پہلے
اسپتال میں یہ غزل کہی تھی جسے اب ساتھیوں کی
نذر کرتا ہوں۔۔۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






