شدت سے ہو رہا ہے دل بے قرار آ جا
Poet: ناظم زرسنر By: ناظم زرسنر, Pakpattansharشدت سے ہو رہا ہے دل بے قرار، آ جا
ممکن نہیں ہے مجھ سے اب انتظار، آ جا
اِس بار بھی ہواؤں میں تازگی نہیں ہے
گزری تھی تیرے بن ہی پچھلی بہار، آ جا
جذبات کی ترے گھر بارات بھیجتا ہوں
اشکوں کی پالکی میں ہو کر سوار، آ جا
دنیا کے شور و غل سے چھٹکارا چاہتا ہے
سن خامشی میں اپنے دل کی پکار، آ جا
پھولوں میں نازکی تھی تیری نزاکتوں سے
بستر پہ چبھ رہے ہیں گل بن کے خار، آ جا
یاد آ رہی ہے تیرے ہاتھوں کی ہر شرارت
چہرے کو چھو رہی ہے پھر سے پھوار، آ جا
لو شام ہو گئی پھر میں راہ میں کھڑا ہوں
آ جاؤ، کہہ رہا ہے من بار بار آ جا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






