شدت فراق کی
Poet: SHABEEB HASHMI By: SHABEEB HASHMI, Al-Khobar KSAسگریٹ کے ھر اک کش میں ھے شدت فراق کی
اب رات بھر جلائے گی ہمیں حدت فراق کی
پھر دھویں میں اسکا چہرہ یوں نکھرتا چلا گیا
اب کیا کیا ہمیں دکھائے گی یہ لزت فراق کی
بچھڑے ھوئے چند پل ہیں کہ صدیاں گزر گئیں
اب کتنی دور تک جائے گی یہ مدت فراق کی
یوں آنسوؤں نے کر دیا ھے لرزہ وجود پر
آنکھوں میں جیسے بس گئی ھو رقت فراق کی
اب تو ملا دے ھمکو کہ دن زندگی کے ہیں کم
مجھ میں نہیں ھے باقی اب سکت فراق کی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







