شرابوں میں نہ مجھ کو ڈوب جانا چاہئے تھا
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiشرابوں میں نہ مجھ کو ڈوب جانا چاہئے تھا
مجھے تو اور لوگوں کو بچانا چاہئے تھا
جو کھائیں در بدر کی ٹھوکریں تو خیال آیا
نہ اپنے ہاتھوں گھر اپنا جلانا چاہئے تھا
پھٹے کپڑے بدن ہے چاک تنہا گھومتا ہے
جسے پھولوں سے کل تک دوستانہ چاہئے تھا
میں سیدھا سادہ انساں کیسے فنکاروں میں رہتا
مجھے کچھ فن زمانے والا آنا چاہئے تھا
جو ہر اک شخص ہی اب بےوفا کہتا ہے اس کو
مجھے غم اپنا لوگوں سے چھپانا چاہئے تھا
یہ رنج و غم کا عالم بزم میں برپا نہ ہوتا
نہ شعر اپنا وہاں مجھ کو سنانا چاہئے تھا
مری مانند گر مجھ سے محبت تھی اسے تو
میں روٹھا تھا اسے مجھ کو منانا چاہئے تھا
جو ہر اک بات پر لڑنے کی اس نے ٹھان لی تھی
اسے شاید بچھڑنے کا بہانہ چاہئے تھا
کچھ ایسے بھی ہمیں باقرؔ بچھڑنا پڑ گیا کہ
مجھے بس وہ ، اسے سارا زمانہ چاہئے تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






