شروعِ عشق سے جو رہے اُس کی پناہوں میں
Poet: Sobiya Anmol By: Sobiya Anmol, Lahore شروعِ عشق سے جو رہے اُس کی پناہوں میں
باعثِ قید تھا یہی‘جا پہنچے سلاخوں میں
ہم سے تو دیکھی نہیں جائے کوئی بدقسمتی
سمیٹا ہے شہر کی گرد کو بھی باہوں میں
کبھی میری روح کی گہرائی میں کھو کر دیکھ
کبھی اُتر کر دیکھ اِ ن خاموش نگاہوِ ں میں
کبھی سنو تو دل کی پاس بیٹھ کر
کبھی سمجھو تو کیا کہتے ہیں آہوں میں
ہمیں رہنا ہے گھنے پیڑوں کی چھاؤٔں میں
ہمیں لپٹنا ہے شجرِ وفا کی شاخوں میں
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






