شریر تھا اجڑ گیا کہیں حسرتوں کے ستم سے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiشریر تھا اجڑ گیا کہیں حسرتوں کے ستم سے
جو عاقل تھا گذرتا رہا فرحتوں کے عدم سے
پرندوں کی دراڑیں سن کر باہر نکلے تھے
یہ کیسا ہوا کا جھونگا گذرا میرے آنگن سے
جس نے اپنے احساس زمانے سے چھپائے رکھے
وہ چبھتا کانٹا پھر گذرا اُس کے دامن سے
گرج کر بادل نے اپنی راہ کہاں موڑ لی
کہ کوئی بھی قطرہ نہ گرا اُس آگم سے
کبھی کبھی یہ دھڑکنیں تیز ہوتی ہیں مگر
مجھے کوئی رنجش نہیں اُس پرائے غم سے
یہ تو وہی روش جس میں ہم سب گم ہیں
پھر بھی روح کہیں نہ ٹکرا کسی ردم سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






