شمع وفا
Poet: Shama By: Shama Chaudhry, milford havenجو پہلی بار میرے دل سے دل تمہارا ملا
میں بے سہارا تھا اب تک تو اک سہارا ملا
تیری وفا نے کیا دل پہ وہ اثر جاناں
پھر اس کہ بعد کسی سے نہ دل ہمارا ملا
ہم نے کیا کیا نہ کیا تیرے لیے اے دوست
مگر ہمیں تو سدا چاہ میں خسارہ ملا
تمام رات گنے ہم نے جاگ کر تارے
محبتوں سے بھرا جب پھلا خط تمہارا ملا
وہ ہجر تھا کہ جلے جس کی آگ میں لیکن
کبھی نہ وصل کا ہم کو کوئی اشارہ ملا
گرا دیا مجھے جس نے نگاہ سے ایک بار اصغر
تمام عمر میں اس سے نہ پھر دوبارہ ملا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi








