شوق تخریب سے بچنا ہے ہمیشہ وشمہ
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیا"پھر کسی آس میں یہ لوگ جئے جاتے ہیں"
زیست کا زہر بھی ہنس ہنس کے پئے جاتے ہیں
گو وفا راس نہیں سادہ دلوں کو لیکن
ہم ہیں مجبور وفا تجھ سے کئے جاتے ہیں
زندگی تیری عداوت ہے ہماری قسمت
تری خوشیوں کا ابھی جام پئے جاتے ہیں
وہ ہیں مشہور جفاؤں میں زمانے بھر میں
ہونٹ الفت کے طلبگار سئے جاتے ہیں
شوق تخریب سے بچنا ہے ہمیشہ وشمہ
شوق تنہائی میں زندہ ہیں جئے جاتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






