شوق تنہائی میں زندہ ہیں ستانے والے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاشوق تنہائی میں زندہ ہیں ستانے والے
ایسے میں آس ہی مل جائےسجانے والے
ہم ملے ہیں تو مراسم کی حفاظت کر لیں
میری تقدیر کا یہ کیسی بنانے والے
گو وفا راس نہیں سادہ دلوں کو لیکن
وہ ہیں مجبور وفا مجھ سے نبھانے والے
-
وقت کی دھار پہ ہر وقت بدلتا دیکھوں
مثلِ بسمل ہے وہ پھر آج دوانے والے
زندگی تیری عداوت ہے ہماری قسمت
تری خوشیوں کا ابھی جام پلانے والے
آپ کا حکم تھا سو ترک محبت ہے حضور
وہ تو کہتے ہیں سبھی چھوڑ کے آنے والے
مجھ کو ڈر ہے کہ کہیں ٹوٹ نہ جائے گر کر
اپنے ہاتھوں سے اگر میں نے لگانے والے
وہ ہیں مشہور جفاؤں میں زمانے بھر میں
کیسے بچھڑے تھے زمانے کو بتانے والے
زیست تنہا سی گزاری ہے اداسی اوڑھے
مرے مالک مجھے ایسا یہ دکھانے والے
اس نے چھینی ہیں مرے خواب کی سب تعبیریں
آنکھ میں درد کی یہ جھیل چھپانے والے
اپنی مرضی سے فنا تم پہ ہوئی ہے وہ ناز
یاد کی آنکھ میں اب تجھ کو بٹھانے والے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






