شوق سے لیجئے میرا حساب۔۔۔۔ بسم اللہ
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillکھو گیا وجد میں دل بیتاب۔۔ بسم اللہ
بہکا بہکا یہ موسموں کا شباب۔۔ بسم اللہ
آج تکمیل کو پہنچی ہے لو کتاب حیات
چل ترے نام کروں انتساب۔۔ بسم اللہ
شوق کی دیدہ دلیری نے کام کر ڈالا
آج اٹھنے لگے ہیں دیکھ حجاب۔۔ بسم اللہ
ماسوا آپکے دیکھا ہی نہیں کچھ میں نے
شوق سے لیجئے میرا حساب۔۔ بسم اللہ
زنگی میں ذرا دنیا میں الجھ بیٹھا تھا
اب بتاؤ کہآں ٹوٹا تھا خواب۔۔۔ بسم اللہ
عشق نے درد کی تعریف ہی بدل ڈالی
آبلہ پا ہوئے کھلتے گلاب ۔۔۔ بسم اللہ
اے میرے پردہ نشیں آنکھ اٹھا کر دیکھو
میرے حصے میں بھی آئے ثواب۔۔۔ بسم اللہ
پوچھتے کیا ہو اب ذبیح سے مرضی اسکی
جبکہ معلوم ہیں سارے جواب۔۔۔ بسم اللہ
چشم حیران میں پھرتی ہیں حوریان فلک
آئے فردوس کو چھو کر جو خواب۔۔۔ بسم اللہ
زاہد بھائی کی فرمائش “ ہاں جی ہاں “ کے پس منظر میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






