شکر ہے اس کو بھی اک نظر دیکھیں گے ہم
Poet: By: Peerzada Arshad Ali Kulzum, harrisburg pa usaشکر ہے اس کو بھی اک نظر دیکھیں گے ہم
اپنی آنکھوں سے جلوہ گر دیکھیں گے ہم
کہتے ہیں دیکھو نہ جلاؤ تنکے جوڑ کے مشکل سے بنایا اسے
ابھی ابتدائے عشق ہے بعد میں گھر دیکھیں گے ہم
جان نثار کرنے کو ہم ہیں تیار ہر پل
لے لو اسے بعد میں کچھ اور پھر دیکھیں گے ہم
خواہش دل کی تم ہو آرزو جگر ہو تم
جان دے دے گے غیر کے ساتھ گر دیکھیں گے ہم
کھا کے قسمیں پھر بھی وعدہ وفا نہ ہوا
دیکھ کے سو بار کہتے ہیں اب نہ ادھر دیکھیں گے ہم
خوب دل کا غبار ارشد جی نکلیے گا تب
ہلکا کریں گے اسے جب بھی جگر جدھر دیکھیں گے ہم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






