شکستِ وفا
Poet: روخشان By: اختر ایوب آفریدی, Peshawarغمِ ہجر نے ہم کو تماشا سا بنا ڈالا
تم ہنس کے گزر جاتے، یہ دنیا بھی ہنسا ڈالا
چپ چاپ جیا کرتے، چپ چاپ مرے ہم بھی
تم نے تو جدائی کا پیمانہ بھی بڑھا ڈالا
لب خشک تھے، آنکھیں تھیں نمناک مسلسل
اس عشق نے ہر درد کو رسوا بھی کیا ڈالا
ہم خاک سے اُٹھے تھے، وہیں لوٹ گئے آخر
تم نے تو ہمیں اور بھی تنہا سا بنا ڈالا
اب کوئی صدا، کوئی صلہ، کوئی وفا کیا؟
روخشان نے خود اپنا جنازہ بھی اُٹھا ڈالا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






