شکوہ
Poet: Chohan By: M Yasir Chohan, karachiنہیں اچھا کوئی اشارہ صاف کہہ دو نہ
کہاں تک ساتھ دو گے تم ہمارا صاف کہہ دو نہ
جدائی کی طرح دریا بھی اپنے ساتھ چلتے ہیں
نہیں ملتا کنارے سے کنارہ صاف کہہ دو نہ
بہانے اپنی مجبوری کے کیوں آکر سناتی ہو
قصور اس میں نہیں کوئی تمہارا صاف کہہ دو نہ
ہمیں تنہائی کے طعنے تم مت دو غیر کے آگے
کہ ہم بھی ڈھونڈلیں کوئی سہارا صاف کہہ دو نہ
ہمارے ہاتھ کی اکثر لکیریں ملتی جلتی ہیں
مگر ملتا نہیں اپنا ستارہ صاف کہہ دو نہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







