شہر وفا کی آنکھ کا تارا بنا دیا...
Poet: سید نذیر کاظمی By: Syed Nazeer Kazmi, Islamabadروشناس عشق سے دل کو کرا دیا
اب سوچتے ہیں ھم نے بھی کیا گل کھلا دیا
پھر شوق جستجو نے بڑھاوا دیا ھمیں
پھر راہ میں آوارگی نے لا کھڑا کیا
جانا تو کہیں اور تھا کچھ سوچ کر مگر
رسوا تھے جس گلی میں قدم واں بڑھا دیا
تب تک نہ چاند یار کی شبیح میں بدل سکا
داغ قمر نہ جب تلک خود پر سجا لیا
قائم بھی تو ھمی سے تھا اس حسن کا بھرم
کہ شہر وفا کی آنکھ کا تارا بنا دیا
اس معرکہءعشق میں قائم تھا ضبط ہی
میرے ہی دل کا حال سنا کر رولا دیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






