شہر کا ہر مکٰیں اداس ہے
Poet: M.ASGHAR MIRPURI By: M.ASGHAR MIRPURI, BIRMINGHAMشہر کا ہر مکیں اداس ہے نہ جانےکیوں
سب کی آنکھ میں یاس ہے نہ جانے کیون
اس دنیا میں جتنے بھی پرانے پاپی ہیں
ان کے تن پہ اجلا لباس ہے نہ جانےکیوں
دور حاضر کے لوگوں کی زبان میں
پہلے جیسی نا باس ہےنہ جانےکیوں
حلوائی میرےشعرجلیبی میں ڈالتےہیں
ان میں بے حد مٹھاس ہےنہ جانےکیوں
میں دن بھر اس کی تصویر دیکھتارہتاہوں
پھربھی بجھتی ناپیاس ہے نہ جانےکیوں
اپنی تمام عمر محنت کرتے گزری اصغر
مگردولت نہ اپنےپاس ہےنہ جانےکیوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






