شیر کو اپنے سامنے پا کر جب میں پکارا جنگل میں
Poet: rafiq sandeelvi By: rashid sandeelvi, islamabadشیر کو اپنے سامنے پا کر جب میں پکارا جنگل میں
مرے علاوہ کوئی نہیں تھا لکڑ ہارا جنگل میں
گھوڑ سوار نے جس قیدی کو شہر تلک پہنچانا تھا
رستہ ناہموار ہوا تو اُسے اتارا جنگل میں
جس بوڑھے نے اپنے ہاتھ سے اجڑے گھر آباد کیے
اس کا کنبہ بھٹک رہا ہے مارا مارا جنگل میں
اس کے گونگے بہرے دریا اس کی جانب بہتے تھے
لکڑی بن کر راکھ ہوا تھا جسم ہمارا جنگل میں
گھر سے روٹھ کے جانے والے آخر گھر کو لوٹیں گے
چشمے کا جب میٹھا پانی ہو گا کھارا جنگل میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






