شیشے کے مکانات میں گلدان بہت ہیں
Poet: م الف ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachiاس کے یہاں آج آنے کے امکان بہت ہیں
شیشے کے مکانات میں گلدان بہت ہیں
شاید کے کوئی رنج و الم پھر سے ملا ہے
چہرے سے تو وہ لگتے پریشان بہت ہیں
ہوتا نہیں ہے ہم سے تو اب کوئی بہانہ
سچ کہتے ہیں آجاؤ پریشان بہت ہیں
ہاتھوں میں نیا اس کے کوئی جال ہے لوگو
پھنس جائیں کوئی آج یہ امکان بہت ہیں
اس راہِ محبت میں ذرا دیکھ کے چلنا
آتے ہیں نظر اچھے یہ سنسان بہت ہی
کوئی نہیں مانا ہے یہاں اپنی خطائیں
لگتا ہے یہاں صاحبِ ایمان بہت ہیں
انسان یہاں دیتا ہے انسان کو دھوکہ
شیطان سبھی آج یاں حیران بہت ہیں
مشکل میں یہاں آج بھی انسان بہت ہیں
ظالم یہاں کے آج بھی سلطان بہت ہیں
دشمن کی کسی ہم کو ضرورت ہی نہیں ہے
آپس میں ہی ہم دست و گریبان بہت ہیں
حیوان بھی کہتے ہیں اگر شہر کو جانا
رہنا ذرا بچ کے وہاں انسان بہت ہیں
یہ تو خدا کا گھر ہے یہاں تو نہ لڑو یوں
لڑنے کو یہاں دوسرے میدان بہت ہیں
دشمن نہیں میرا یہاں سب دوست ہیں میرے
اللہ کے مری ذات پہ احسان بہت ہیں
اردو ہے زباں میری مجھے جان سے پیاری
دنیا میں ابھی اس کے قدر دان بہت ہیں
یہ بات ہے برحق اسے میں کہتا رہوں گا
اللہ ہے مرا اک ترے بھگوان بہت ہیں
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






