صحرائے ذات میں پھرے تنہا ہی تنہا ہم
Poet: Wamiq Kakakhel By: Wamiq Kakakhel, Rawalpindiصحرائے ذات میں پھرے تنہا ہی تنہا ہم
گنجان شہر میں رہے تنہا ہی تنہا ہم
صوت و صدا سے خالی تھا ماحول چار سو
حیرت سے دیکھتے رہے تنہا ہی تنہا ہم
اب کس سے جا کہیں کہ یہ زنجیر کھول دے
کس سے کہیں کہ تھک گئے تنہا ہی تنہا ہم
وہ داستاں جو ہم سے کسی نے نہیں سنی
خود سے ہی کہہ کے سنتے تھے تنہا ہی تنہا ہم
آزردگی کے رنگ سجا کر نہیں پھرے
غم سہتے ضبط کرتے تھے تنہا ہی تنہا ہم
تلقین و وعظ اوروں کو ہم نے بہت کئے
میخانے روز جاتے تھے تنہا ہی تنہا ہم
وامق جنوں کا دور ہے سرمایہ حیات
یک طرفہ عشق کرتے تھے تنہا ہی تنہا ہم
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






