صحرا کے کسی بھولے ہوئے کل سے گزرنا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلا مشکل ہے بہت عہدِ مسلسل سے گزرنا
صحرا کے کسی بھولے ہوئے کل سے گزرنا
اک شخص نے پھر آج ہواؤں کے مخالف
عادت ہی بنالی ہے مرے دل سے گزرنا
برسے گا کسی روز تو بھیگے گی تمنا
اک خواب کی دنیا میں ہے بادل سے گزرنا
اس زیست کے طوفان کا لگتا ہے اشارہ
دریا کا مری آنکھ کے کاجل سے گزرنا
اب راستہ وشمہ تو کوئی اور بنا لے
اس نے تو ہے اغیار کی محفل سے گزرنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






