صفحۂ زیست جب پڑھوں گا تمہیں
Poet: احمد عطا By: Abdul Rehman, Peshawarصفحۂ زیست جب پڑھوں گا تمہیں
دیر تک چومتا رہوں گا تمہیں
تم بھلے دیکھتے رہو سب کو
میں چھپا کر کہیں رکھوں گا تمہیں
تم بنے ہو بنے رہو خوشبو
میں کسی روز لے اڑوں گا تمہیں
راگ ہو، دل کی دھڑکنوں کا راگ
سامنے بیٹھ کر سنوں گا تمہیں
دیکھنا دیکھتے ہوئے مجھ کو
کس طرح آنکھ میں بھروں گا تمہیں
جاؤ چھپتے پھرو گریز کرو
ایک دن میں بھی دیکھ لوں گا تمہیں
تم بہت دور جا چکے ہو گے
میں کہاں ڈھونڈھتا پھروں گا تمہیں
اک دن احمد عطاؔ بھی خواب ہوا
کہہ گیا خواب میں ملوں گا تمہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






