صورتِ ابر مرے سر پہ رہا کرتا ہے
Poet: Aisha Baig Aashi By: Aisha Baig Aashi, karachiصورتِ ابر مرے سر پہ رہا کرتا ہے
دُھوپ کو میرے بدن سے وہ جدا کرتا ہے
اپنے پیکر میں جیا کرتی ہے دنیا لیکن
وہ عجب شخص ہے وہ مجھ میں جیا کرتا ہے
پاس رہ کر بھی رفاقت نہیں مل پاتی کبھی
دُور، رہ کر بھی مرے ساتھ رہا کرتا ہے
اس سے پہلے کہ کوئی حرف دے لب پر دستک
وہ مری ان کہی ہر بات سنا کرتا ہے
جب بھی ہوتی ہے شبِ زیست میں تاریکی سی
بن کے مہتاب مری شب میں ضیا کرتا ہے
سارے جذبوں کی محبت کی چمک ہو جن میں
اُن ستاروں سے مری مانگ بھرا کرتا ہے
زخم کیسا ہی ہو دیتا ہی نہیں درد مجھے
درد سے پہلے ہی وہ اُسکی دوا کرتا ہے
ایسا لگتا ہے کہ تھم جائیں گی سانسیں میری
کوئی پل کو جو وہ خاموش ہُوا کرتا ہے
کیوں نہ عاشی میں غرور اپنے مقدر پہ کروں
اِس قدر پیار بھلا کس کو ملا کرتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






