ضدی
Poet: شفق By: Shafaq, Lahoreضدی آپ ہیں تو ہم بھی سر پھرے ہیں
نہ مانیں گے آپ تو ہم بھی اڑے ہیں
آج تو آپ سے سوال ہو گا
محبت کا آپ کی امتحان ہو گا
چاہتے ہیں اگر ہم کو سب سے زیادہ
چھوڑ کر سب ہمارے پاس بیٹھنا ہو گا
نہیں چلنے دیں گے بہانہ کوئی
فرار ہونے کا طریقہ کوئی
بانہوں میں لے کر ہم کو جھومنا ہو گا
لبوں سے لبوں کو چومنا ہو گا
دل کی پیاس کو بجھانا ہو گا
روح کو روح میں بسانا ہو گا
قریب اتنا آپ آیں گے ہمارے
ہو گی نہ کوئی حد نہ فاصلہ ہو گا
ہر دیوار کو گرانا ہو گا
حد سے آگے جانا ہو گا
پاگل ہو جایں ہم
کچھ ایسے پیار جتانا ہو گا
بس آج آپ کو ہمیں اپنا بنانا ہو گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






