ضرورت
Poet: purki By: M.Hassan, karachiبچے ہیں اصل میں ماں باپ کی ضرورت
پیدائش کے بعد ماں باپ بچے کی ضرورت
جینے کے لئے ایک وقت تک ماں باپ کی ضرورت
شادی کے بعد پھر بیوی بچوں کی ضرورت
دادا دادی،نانا نانی کو پوتے اور نواسے کی ضرورت
بڈھاپے میں دل بہلانے کے لئے کھلونے کی ضرورت
گیلانی کو کرسی بچانے کے لئے سپیکر کی ضرورت
زرداری کو مال بچانے کے لئے وزیر اعظم کی ضرورت
عدلیہ کو سسٹم بچانے کے لئے خط لکھنے کی ضرورت
پی پی پی کو حکومت بچانے کے لئے نواز کی ضرورت
نواز،خود کو بچانے کے لئے لانگ مارچ کی ضرورت
جمہوریت کو بچانے کے لئے لوٹوں کی ضرورت
عدلیہ کو بچانے کے لئے سونامی کی ضرورت
سونامی کو بچانے کے لئے عوام کی ضرورت
عوام کی ضرورت کیا ہے حکومت کو سمجھنے کی ضرورت
ایسا ممکن نہیں ہوا تو پھر حکومت سے نجات کی ضرورت
حالات صدا دے رہے ہیں ایک تیسری قوت کو
حالات مزید بگڑ گئے تو پھر بوٹوں کی ضرورت
کرپٹ سسٹم کو بچانے کے لئے نواز اور زرداری کی ضرورت
ان دونوں کو سپورٹ کرنے کے لئے بےضمیر لوگوں کی ضرورت
ملک اور عوام کے بچانے کے لئے تحریک انصاف کی ضرورت
تمام جھوٹوں کو مات دینے کے لئے عمراں خان کی ضرورت
تمام مجرموں کو پھانسی پہ چڑھانے کی ضرورت
“ولکم فی ا لقصاص حیات یا اولی ا لا لباب“ کی ضرورت
قرآن کے اس آیت پر عمل کرنے کی ضرورت
زندگی چاہتے ہو تو اسلام پر عمل کرنے کی ضرورت
اسلام کو سمجھنا ہو تو قرآن کو سمجھنے کی ضرورت
دنیا پہ راج کرنا ہو تو “وعتصمو بحبل اللہ جمیعا و لا تفرقو“ کی ضرورت
امید بر آئیں گی مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا
ہے نیا جذبہ ہے نیا ولولہ ان کے اندر عجیب طرح
گول ہوتے نہیں ان کھلاڑیوں سے نمائندوں کی طرح
رفتہ رفتہ یہ کھلاڑی ڈھل چکے ہیں زوال کی جانب
نظر نہیں آتی ان کو بھی گول کی کوئی صورت
ہے انجام سے غافل ہر طرح کے چیمپین بھی
انکل سیم کے حواری بھی ہیں بدمست ہاتھی
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا






