ضروی تو نہیں جتنا میں اسکو
Poet: AIK BANDA By: AIK BANDA, Londonضروی تو نہیں جتنا میں اسکو
اتنا وہ مجھ کو سو چتا تو ھو گا
پل بھر میں کیسے مان جاؤں
وہ کچھ نہ کچھ سوچتا تو ھو گا
وہ گزرا ھوا وقت
وہ صبح و شام کی قربتیں
وہ ماضی کی یادیں
وہ کچھ نہ کچھ سوچتا تو ھو گا
وہ شروع شروع کاشرمانا
اسکا میرے سامنے نہ آنا
وہ میرا حجاب سے نظریں نہ ملا نا
وہ کچھ نہ کچھ سوچتا تو ھو گا
وہ میرے بغیراداس رھنا
دیر ھونے پہ بےچین رھنا
ملنےپر مسکراھٹ پھیلنا
وہ کچھ نہ کچھ سوچتا تو ھو گا
وہ زندگی کے حادثے
وہ چھوٹی چوٹی شرارتیں
وہ بیمار ھونے پر اسکا تڑپنا
وہ کچھ نہ کچھ سوچتا تو ھو گا
وہ گھنٹوں گھنٹوں کلام نہ کرنا
کن آنکھیوں سےایک دوسرے کو دیکھنا
پھر بلا وجہ خودی مسکرا دینا
وہ کچھ نہ کچھ سوچتا تو ھو گا
اے پڑھنے والے تو کیوں حیراں ھے
یہ تو سب کی زندگی کا یکساں ساماں ھے
بار بار پڑھ کر تو بھی
وہ کچھ نہ کچھ سوچتا تو ھو گا
معذرت کے ساتھ آخری شعر میں لفظ تو کا استعمال شعر کا وزن برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ھے یہاں اس لفظ سے مراد آپ لیا جائے
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






