طبیبِ عشق اک نگہ ادھر
Poet: Sana Ghori By: Sana Ghori, karachiطبیبِ عشق اک نگہ ادھر
ہو تسخیرِجان وبدن
اے سوزِالفت وتشریحِ ثنا کے دائی
سخاوتِ عثمانِ غنیؓ تجھ میں پائی
کر کچھ مداوا اے شریک ِ غم
کشکول دھرا ہے ہاتھ پر
سوالِ سائل ہے منتظر
نگاہ یاسیت سے بیاباں
بتا اے صاحب عقل! کہ تو ہے ہوش مند
ہے مال وزر نامعتبر
ہے جسم تو اِدھر، مگر ہے روح کدھر؟
بھٹک رہی وہ دربدر
تو ہی کچھ اس کی فکر کر
گُلوں کا پیرہن
مجھے دان کر
کہ خوشبو اٹھے جب جسم سے
تو لوٹ آئے روح ادھر
جو فنا کی سمت ہے رواں
کبھی اِس ڈگر، کبھی اُس ڈگر
چڑھے سیڑھیاں وہ عروج کی
مجھے ڈر لگے، اٹھے ہوک سی
کہیں چھو نہ لے وہ آسماں
کہیں چھو نہ لے وہ آسماں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






