طرحی مشاعرہ
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, نیویارکمیری مکمل کاوش
وہ ہم سے کسی طور رعایت نہیں کرتے
ہم ایسے ہی دنیا سے بغاوت نہیں کرتے
ہم کو یہ بدلنا ہے مزاج اپنے چلن کا
قسمت کی لکیروں پہ قناعت نہیں کرتے
جیسے تجھے پوجا ہے یہی سوچ رہی ہوں
ایسے تو خدا کی بھی عبادت نہیں کرتے
خود کو ہی مٹا ڈالا ہے جس شخص کی خاطر
وہ کہتا ہے ہم سے تو محبت نہیں کرتے
بچپن سے ہی چاہا ہے تجھے میری محبت
ہم اپنی محبت میں خیانت نہیں کرتے
پڑھتے ہیں کسی اور کی الفت کے ترانے
قرآن کی ہم لوگ تلاوت نہیں کرتے
اس عشق میں خود کو جو مٹا ڈالا ہے وشمہ
ایسے میں تو احساسِ ندامت نہیں کرتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






