طرحی مشاعرہ
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاتھی رات وصل کی لیکن وصال آتا ہے
نہ داغ دل سے مٹے گا خیال آتا ہے
وفا کی مجھ کو طلب ہے نہ دوستی کی تلاش
ہر ایک فرد کا دھو کا کا سال آتا ہے
تھی زندگی تو ہمیشہ سے ہی بہت تنہا
کیوں اب برا مرا فرقت میں حال آتا ہے
یہ فاصلہ کبھی پل بھر میں مٹ بھی سکتا تھا
"کہاں کسی کو کسی کا خیال آتا ہے
وہ بات بھی تو محبت کی بات ہوتی ہے
وہ سال بھی تو مسرت کا سال آتا ہے
نہ پوچھو مجھ سے کبھی بھی سوال تم ایسا
جواب جس کا بہت ہی محال آتا ہے
تو ایسے شخص سے ہو دوستی کی حسرت کیوں
رہے جو تیرا عدو تو خیال آتا ہے
تری جدائی کا غم ہر گھڑی میں ہے وشمہ
ترے بغیر ادھورا یہ سال آیا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






