ظالموں کردیا ہم کو تقسیم در تقسیم
Poet: purki By: m.hassan, karachiملاذمت کا ٹھیکہ مل گیا اب وزیروں کو
نوکری کہاں ملے گی اب ہم غریبوں کو
وزرا کی تعداد بھی اب سینکڑوں میں
کیا ضرورت ہے اتنے سانڈھ پالنے کی
کیا شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ ہے غریب ملک کے وزیروں کی
اوپر سے چمچوں اور درباریوں کے کروڑوں کے دورے بھی
اس ملک کے جڑوں کو بھی تم نے اب کھوکھلی کر دی
اربوں کے فنڈز بٹ رہی ہے صرف اپنے ہی چمچوں میں
روز کا خرچہ بھی ان کا ہے کئی کئی لاکھوں میں
ان سے کچھ بچے توپھر وزیروں اور مشیروں میں
ان سے کچھ بچے تو ٹھیکہ داروں میں
پھر بھی کچھ بچے تو پھر ان کے چمچوں میں
ہرطرف چمچوں کے چمچے اور شوربوں کے شوربے
اب کیا بچے گا سوچو تو ہم غریبوں کے کھاتے میں
چھوٹی چھوٹی نوکریاں بک رہی ہے لاکھوں میں
جارہے ہیں پیسے اب ممبروں کے جیبوں میں
پونجی توسمیٹ لئے سب اب ووٹ بھی سمیٹنے ہیں
شرط یہ ہے اب تم نے ووٹ بھی ہمیں ہی دینے ہیں
آزادانہ عام انتخابات اب محض ایک ڈھکوسلہ ہے
سب ریٹرنینگ افسراں پآرٹی کے چمچے ہیں
ایک ہی صورت میں ہمیں ان سے مل سکتی ہیں نجات
فوج کی نگرانی میں سپریم کورٹ کرے جب انتخابات
دکھ دیئے ہیں ان ظالموں نے ہم سب کو بہت
ہم سبھی مل کر ہی کر سکتےہیں اب ان کا علاج
اب بھی ہم ہوش میں نہ آئے تو پھر دیکھ لینا تم حسن
کس طرح ہم در بدر ہونگے اور مزے کریں گے یہ حکمراں
ایک ہوکر ان ظالموں نے کردی ہم کو تقسیم در تقسیم
ہم بھی ایک جاں ہوکر ان کو کردو تقسیم در تقسیم
یہ ظالم سب ہی کھاتے ہیں ایک ہی دسترخواں پر اکھٹے ہوکر
ہماری بوٹیاں نوچ نوچ کر یہ راج کرتے ہیں ہم غریبوں پر
سوائے کانفرنس اور سیمنار کے یہ کرتے کراتے کچھ نہیں
اپنے ہی چمچوں کو بلاکران میں یہ صرف دعوتیں اڑاتے ہیں
عیش کرتے ہیں اور سیر سپاٹے بھی کرتے ہیں
لنچ اور ڈنر بھی کرتے ہیں ہمارے ہی پیسوں سے
آنے والی نسلوں کے کندھوں پر قرضے چڑھا چڑھا کر
عوام کو بیوقوف بناتے ہیں یہ لوگ بھیس بدل بدل کر
امید بر آئیں گی مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا
ہے نیا جذبہ ہے نیا ولولہ ان کے اندر عجیب طرح
گول ہوتے نہیں ان کھلاڑیوں سے نمائندوں کی طرح
رفتہ رفتہ یہ کھلاڑی ڈھل چکے ہیں زوال کی جانب
نظر نہیں آتی ان کو بھی گول کی کوئی صورت
ہے انجام سے غافل ہر طرح کے چیمپین بھی
انکل سیم کے حواری بھی ہیں بدمست ہاتھی
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا






