ظاہر تو ہاتھ میں کتاب لئے ہو
Poet: Akhlaq Ahmed Khan By: Akhlaq Ahmed Khan, Karachiظاہر تو ہاتھ میں کتاب لئے ہو
پسِ پشت کوئی اور ہی نصاب لئے ہو
کیونکر ملت تیرے رہنمائی میں چلدے
ہاتھوں تم میں مغربی آفتاب لئے ہو
فروغِ رواجِ فرنگی اور اسلامی نظام
جناب آپ بھی چہرے پر نقاب لئے ہو
ترقی کی دوڑ میں رہا ملّا ہی نشانہ
کبھی خود سے بھی تم حساب لئے ہو
ارکانِ خمسہ سے مومن ہوئے لیکن
مجاہد کی طرح کہاں دلِ بیتاب لئے ہو
دشہت گردی ، جہاد ، غلبہ ، تفرقہ
کس قدر سوچوں میں تم گرداب لئے ہو
اخلاق سوال پر تیرے سوال کون کریگا
زباں پہ تم ہر بات کا جواب لئے ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






